ممبئی، 10/جون (ایس او نیوز/ایجنسی) این سی پی سربراہ اور ملک کے سینئر لیڈر شردپوار یوں بھی فرقہ پرستوں کے نشانے پر رہتے ہیں لیکن سوشیل میڈیا پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دئے جانے کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔اس معاملے کو لے کر شرد پوار کی بیٹی سپریہ سُلے نے پولیس میں شکایت درج کروانے کے ساتھ ساتھ یہ جذباتی اپیل بھی کی ہے کہ اس طرح کی اوچھی سیاست بندکی جا نی چاہئے۔ اس معاملے میں پولیس کی تفتیش کے دوران شام تک یہ معلوم ہوا کہ ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیاپر شرد پوار کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے والا امراؤتی کا بی جے پی کارکن سوربھ پمپلکر ہےاور بی جےپی کے ریاستی صدر چندر شیکھر باؤنکولے اور مرکزی وزیر راؤ صاحب دانوے کے ساتھ اس کی کئی تصویریں سوشل میڈیا پر موجود ہیں ۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بی جے پی نشانے پر آگئی ہے۔
دھمکی ملنے کے بعد ویسے بھی مختلف سیاسی لیڈروں نے بی جےپی پر ہی شبہ ظاہر کیا تھااور سنجے راؤت جنہیں بھی جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے نے اسے ’حکومت کا اسپانسرڈ ٹیرر ازم ‘ قرار دیا ہے۔
شرد پوار کو جان سے مارنے کی دھمکی ملنےکے بعد رکن پارلیمان اور شرد پوار کی بیٹی سپریہ سلے نے ممبئی کے پولیس کمشنر سے ملاقات کر کے انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔ سپریہ سلے نے کمشنر سے ملاقات کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے وہاٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا ہے جس میں شرد پوار صاحب کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اسی طرح کی دھمکی دیگر اکاؤنٹ پر بھی آئی ہے اسی لئے مَیں ممبئی کے پولیس کمشنر سے انصاف مانگنے آئی ہوں۔‘‘دھمکی آمیز بیان کا پرنٹ آؤٹ دکھاتے ہوئے سپریہ سلے نے مزید کہا کہ ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ اور ریاست کےوزیر داخلہ دیویندر فرنویس سے میری درخواست ہے کہ اس طرح کی جو حرکتیں ہو رہی ہیں وہ روکی جائیں کیوں کہ یہ اوچھی اور نہایت نچلے درجہ کی سیاست ہے جس میں بی جے پی لیڈران ملوث ہورہے ہیں۔ اس معاملے میں ہمیں انصاف ملنا چاہئے اور خاطی کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔سپریہ سلے نے مزید کہا کہ اگر شرد پوار صاحب کو کچھ ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار امیت شاہ اور دیویندر فرنویس ہوں گے ۔